ابنا: جرمن سرکار کے ترجمان کے مطابق، مرکل نے ایرانی صدر کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس تجویز پر عمل کا مطالبہ کیا۔
جرمن چانسلر نے ایرانی صدر کی اعتدال پسندانہ پالیسیوں کی تعریف بھی کی۔
غور طلب ہے کہ جمعرات کو ایرانی صدر کی تجویز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہوئی تھی، جسمیں کہا گیا تھا کہ تہران شامی حکومت اور مخالفین کے درمیان ثالثی کرنے کے لیے آمادہ ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ میری حکومت شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گفتگو میں مدد کے لئے آمادہ ہے۔
ڈاکٹر روحانی نے علاقائی ممالک میں قومی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے اجتماعی کوششوں کی تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں شام سے لے کر بحرین تک تعمیری قومی ڈائیلاگ کے لیے اجتماعی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے عوام کو ان کی اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل ہو سکے۔
.......
/169